خیبر پختونخوا حکومت کا 2 برسوں سے زیر التوا ترقیاتی منصوبے ختم کرنے کا فیصلہ 18

خیبر پختونخوا حکومت کا 2 برسوں سے زیر التوا ترقیاتی منصوبے ختم کرنے کا فیصلہ

پشاور: صوبہ پرمالی بوجھ کم کرنے کے لیے محکمہ پی اینڈ ڈی نے زیروپوائنٹ پرموجود 2 برسوں سے زیر التوا ترقیاتی اسکیمیں ختم کرنے کی تجویز دے دی۔

خیبرپختونخوا میں خزانے پر مالی بوجھ کم کرنے اور ترقیاتی اسکیموں کے دورانیہ تکمیل کی مدت میں کمی لانے کی غرض سے محکمہ پی اینڈ ڈی(پلاننگ اینڈ ڈولپمنٹ) نے ایسی تمام اسکیموں کو ختم کرنے کی سفارش کردی ہے جو ترقیاتی پروگرام کا حصہ تو ہیں تاہم ان پر گزشتہ دو سالوں کے دوران کام شروع نہیں ہوسکا۔

خیبرپختونخوا میں اس وقت سالانہ ترقیاتی پروگرام میں مجموعی طور پر 1380 ترقیاتی اسکیمیں شامل ہیں جن میں 1155 اسکیمیں ہیں جن کے لیے 68 ارب43 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 225 نئی ترقیاتی اسکیمیں ہیں جن کے لیے 40 ارب46 کروڑروپے مختص کیے گئے ہیں، مجموعی طور پر 180 ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام بجٹ کا حصہ ہے جو گزشتہ مالی سال 2017-18  کےلیے 208 ارب کا تھا تاہم 147 ارب روپے خرچ کیے جاسکے۔

سالانہ ترقیاتی پروگرام میں بڑی تعداد میں ترقیاتی منصوبوں کو شامل کیے جانے کی وجہ سے صوبہ پر مالی بوجھ بڑھنے کے ساتھ ان کا دورانیہ تکمیل (تھروفارورڈ)بھی 6 سال تک پہنچ چکاہے جس کی تصدیق صوبائی سیکرٹری خزانہ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں کی تھی، محکمہ منصوبہ بندی وترقیات نے مذکورہ صورت حال کو مد نظررکھتے ہوئے صوبائی حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ ایسی ترقیاتی اسکیمیں جو سالانہ ترقیاتی پروگرام کا تو حصہ ہیں لیکن گزشتہ دو سالوں کے دوران ان پر کام شروع نہیں کیا جاسکا ایسی اسکیموں کو سالانہ ترقیاتی پروگرام سے ڈراپ کردیاجائے تاکہ دیگر اسکیموں پر فوکس کرتے ہوئے ان پر جلد کام مکمل کیاجاسکے اور اس سے تھروفارورڈ میں بھی کمی آئے گی۔

مزید پڑھیں:  تشدد اور قتل وغارت نہیں صرف مذاکرات سے ہی مسئلہ کشمیرحل ہوگا،وزیراعظم

The publish خیبر پختونخوا حکومت کا 2 برسوں سے زیر التوا ترقیاتی منصوبے ختم کرنے کا فیصلہ appeared first on ایکسپریس اردو.

Premium WordPress Themes Download
Download WordPress Themes Free
Download Best WordPress Themes Free Download
Free Download WordPress Themes
free download udemy course
download xiomi firmware
Download Premium WordPress Themes Free
online free course

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں