تھرپارکر میں بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ موروں سے محبت کرنے والا استاد 14

تھرپارکر میں بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ موروں سے محبت کرنے والا استاد

تھرپارکر میں چھ سال سے قحط ہے، بارشیں نہ ہونے سے انسانوں کے ساتھ مویشی اور پرندے بھی بھوک اور پیاس کا شکار ہیں اور موت کے منہ میں جارہے ہیں،قحط کے باعث بچوں کی ساتھ تھر کا حسین پرندہ مور بھی بیماری اور بھوک پیاس سے مررہا ہے۔

تھرپارکر میں قحط کے باعث خوراک کی قلت ہے جس پر سندھ  حکومت نے مفت امدادی گندم دینے کا اعلان کیا اور رواں سال امدادی گندم کی تین اقساط دی جاچکی ہے،تھرپارکر میں ہر نادرا کے پاس  رجسٹر خاندان کو پچاس کلو گندم ملتی ہے،محنت کش اور چھوٹے ملازم اس گندم سے بچون اور اپنے بھوک مٹاتے ہیں وہاں ایسے سے لوگ موجود ہیں جو اپنے ساتھ پرندوں کا بھی احساس رکھتے ہیں اور ان کو بھی دانہ پہنچانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

مٹھی کے سوٹھر محلہ کا رہائشی پرائمری ٹیچر سونجی سوٹھر بھی ایسا ہی کردار ہے جو موروں کی خدمت کو عبادت سمجھتا ہے،40 سالہ سونجی مٹھی سے 30 کلومیٹر دور گاؤں بٹری بھوپا میں استاد ہے،روزانہ اسکول بس میں جاتا ہے اور سڑک سے اتر کر ایک کلومیٹر تک کچے کا پیدل سفر کرکے اسکول پہنچتا ہے،اسکول میں جاکر اس نے زیر تعلیم پانچ بچوں سے محنت کرکے والدین کو مطمئن کرکے 50 تک گاؤں اور آسپاس کے گائوں سے بھی بچے اسکول لایا ،جس بعد اسکول میں آنے والے ایک مور کو دانے دینا شروع کیا۔ایسے دانے کے لئے آنے والے مور بڑہتے گئے اور چھ ماہ سے 50 سے زائد مور دانے کھانے پہنچ جاتے ہیں۔

سونجی سوٹھر اب ان تمام موروں کے لیے مفت ملنے والی امداد گندم سمیت گندم خرید کر اسکول کی الماری میں رکھتا ہے اور اب مور اس کے اتنے دوست بن گئے کہ صباح سویرے سے ہی استاد کا انتظار کرتے ہیں جیسے ہی استاد اسکول کے قریب ٹیلے سے اترنے لگتا ہے تو موروں کا ہجوم امنڈ آتا ہے اور موروں کے قافلے میں وہ اسکول پہنچتا ہے جہاں وہ ایک سے ڈیڈہ کلو تک دانے دیتا ہے جو کھا کر مور پھر جھنگل طرف چلے جاتے ہیں۔

موروں سے محبت کرنے والے استاد سونجی سوٹھر نے بتایاکہ ایک مور کو دانا دیا تو پھر مور مزید آنے لگے اور اب اسکول کا احاطہ موروں سے بھر جاتا ہے،چھ ماہ سے یہ سلسلہ چل رہا ہے،تین ماہ سے امدادی گندم ملی وہ بھی موروں کو دی اور پہلے خرید کر موروں کو کھلاتا ہوں۔

موروں کے اتنےتعداد کو روزانہ پانچ کلو گندم چاہیے مگر اتنا میرے میں وسعت نہیں ہے،اتنے دانوں سے بھی مور خوش ہوجاتے ہیں۔جیسے ہی آواز سنتے ہیں بھاگ کر بچوں کی طرح پہنچ جاتے ہیں،موروں کے ساتھ دوسرے چھوٹے پرندے بھی آتے ہیں مگر گندم کا بڑا دانہ وہ کھا نہیں سکتے ہیں۔ٹیچر کا مزید کہنا تھا کہ موروں کی خدمت سے خوشی ملتی ہےاس خدمت کے ساتھ بچوں کو پڑھاتا ہوں،جب اسکول جوائن کیا تب 5 بچے تھے اب پچاس بچے داخل ہیں،قریب کے چار پانچ گائوں سے پیدل سفر کرکے بچے آتے ہیں،اسکول میں فرنیچر،پانی سمیت بنیادی سہولیات نہیں ہیں۔

مزید پڑھیں:  سانحہ ساہیوال میں ہلاک ذیشان کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے، پنجاب حکومت

تھرپارکر میں محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق 14 سو گائوں میں ایک لاکھ کے قریب مور موجود ہیں ان موروں میں قحط کے باعث بھوک ،پیاس اور رانی کھیتی بیماری پھیلتی رہتی ہےجس وجہ سے ہر سال  16 سو سے 2 ہزار تک مور مر جاتے ہیں،علاقہ مکین امتیاز علی بتاتے ہیں کہ تھر میں لوگ موروں  سے بچوں کی طرح پیار کرتے ہیں،موروں کو اپنے پہنچ تک دانے ،پانی بھی دیتے ہیں اور ان کو شکاریوں سے بھی بچاتے ہیں۔

موروں کے بارشوں کے موسم میں انڈے اوربچے پیدا ہوتے ہیں ان انڈوں اوربچوں کو بھی مقامی لوگ بچاتے ہیں اور شکاریوں کو بچے پکڑنے نہیں دیتے جو بھی گاؤں کا بندہ بچے پکڑتا ہے اس کے خلاف محکمہ وائلڈ لائف کو فوری شکایت کرتے ہیں اور مقامی سطح پر اس عمل کی بھرپور روکتھام کرتے ہیں۔

تھرپارکر میں مسلسل قحط کے باعث دیگر چھوٹے بڑے پرندے بھی مر چکے ہیں اور ان کی نسلیں ہی منظر سے غائب ہوچکی ہیں۔جس میں کبوتر، کوے، فاختہ، چڑیاں، چڑے،بلبل،مینا،تیتر،طوطے،رنگین چڑیہ،چیل،گد سمیت دیگر پرندے شامل ہیں،

تھرپارکر میں موروں کے تحفظ کی ذمی داری محکمہ وائلڈ لائیف کی ہے اور رہائشی مکمل تعاون کرتے ہیں،موروں میں بیماری پھیلنے بعد رہائشی میڈیا اور محکمہ وائلڈ لائف کو اطلاع کرتے ہیں اور اپنے طور پر بھی موروں کا علاج اور دیکھ بحال کرتے ہیں،محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے ملنے والی ادویات بھی مقامی رہائشی خود دیتے ہیں۔

افسوسناک صورتحال یہ کہ محکمہ وائلد لائف کے پاس موروں کی علاج اور خوراک کا کوئی بندوبست نہیں ہے،بیماری کی صورت میں محکمہ پولٹری سے ڈاکٹر اور ادویہ اور وئکیسن لی جاتی ہے ،تھرپارکر میں پولٹری ڈپارٹمنٹ کے پاس بھی صرف ایک ڈاکٹر ہے اور رانی کھیت بیماری میں ادویات بھی مرغیوں والی موروں کو دی جاتی ہیں۔

رواں سال بھوک ،پیاس اور بیماری سے three سو سے زائد مور مر چکے ہیں اور اس وقت بھی بیماری چل رہی ہے مگر اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا جارہا ہے،میڈیا میں رپورٹس بعد محکمہ کے افسراں اور عملہ سب اچھا ہی رپورٹ دے کر اپنی ذمی اری سے آزاد ہوجاتا ہے۔

The put up تھرپارکر میں بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ موروں سے محبت کرنے والا استاد appeared first on ایکسپریس اردو.

Free Download WordPress Themes
Download Nulled WordPress Themes
Free Download WordPress Themes
Free Download WordPress Themes
free online course
download redmi firmware
Download Nulled WordPress Themes
udemy paid course free download

اپنا تبصرہ بھیجیں