برق رفتاری سے انفیکشن معلوم کرنے والا کم خرچ بایو سینسر 43

برق رفتاری سے انفیکشن معلوم کرنے والا کم خرچ بایو سینسر

کیلگری: امریکی ماہرین نے مختلف امراض اور انفیکشن کا ہاتھوں ہاتھ پتا لگانے والا کم خرچ اور تیز رفتار سینسر تیار کیا ہے جس سے امراض کی تشخیص میں غیر معمولی مدد ملے گی۔

یہ سینسر، کینیڈا کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا اور یونیورسٹی آف کیلگری نے مل کر بنایا ہے۔ بایو سینسر ایسے انفیکشن منٹوں میں شناخت کرسکتا ہے جنہیں عام حالات میں تصدیق کرنے میں تین سے پانچ دن لگ جاتے ہیں۔

بایو سینسر خاص انداز سے کام کرتا ہے اور ڈھائی گیگا ہرٹز کی مائیکرو ویو (خرد امواج) خارج کرتا ہے جو نمونے سے گزرتی ہیں۔ اس کے بعد ماہرین امواج کا جائزہ لیتے ہیں اور اس کی ریزونینس اور ارتعاش میں تبدیلی کو دیکھتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اس میں کونسے بیکٹیریا کس تعداد میں موجود ہیں۔

آزمائش کے لیے اسے ای کولائی بیکٹیریا والے نمونے میں آزمایا گیا جس کے محلول کے پی ایچ لیول مختلف سطح کے تھے اور اس موقع پر سینسر نے فوری طور پر نتائج دکھائے جو بالکل درست تھے۔ اس تحقیقی ٹیم کے سربراہ پروفیسر محمد ظریفی ہیں اور تحقیق کی روداد نیچر سائنٹفک رپورٹس میں شائع ہوئی ہے۔

محمد ظریفی نے بتایا کہ ’ جدید رجحانات کی وجہ سے ہم (بیماریوں کے حامل) مائع نمونے شناخت کرنے والی پوری تجربہ گاہ ایک چپ پر بناسکتے ہیں۔ اس بایو سینسر چپ کے نتائج قابلِ بھروسا ہیں اور اس کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ فوری نتیجہ دیتی ہے‘ ۔

مزید پڑھیں:  صارفین کا ڈیٹا چوری ہونے پر فیس بک پر ایک ارب ڈالر جرمانہ عائد

ماہرین کے مطابق بعض انفیکشن اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ اگر شناخت میں ایک گھنٹہ تاخیر ہوجائے تو مریض کے مرنے کا خدشہ 8 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ یہ بایوسینسر اس کمی کو بطریقِ احسن پورا کرسکتا ہے۔

The post برق رفتاری سے انفیکشن معلوم کرنے والا کم خرچ بایو سینسر appeared first on ایکسپریس اردو.

Premium WordPress Themes Download
Premium WordPress Themes Download
Download WordPress Themes Free
Premium WordPress Themes Download
udemy free download
download redmi firmware
Premium WordPress Themes Download
free download udemy course

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں