انسداد تجاوزات مہم میں بینڈ باجے کا واحد مرکز ختم، شہنائیاں خاموش 8

انسداد تجاوزات مہم میں بینڈ باجے کا واحد مرکز ختم، شہنائیاں خاموش

 کراچی: کراچی میں منصوبہ بندی کے بغیر تجاوزات کے خلاف جاری کارروائی نے جہاں ہزاروں دکانداروں کو بیروزگار کیا ہے وہیں گارڈن کی کے ایم سی مارکیٹ کی بالائی منزل پر قائم بینڈ باجے والوں کے دفاتر بھی مسمار کردیے گئے ہیں۔

کراچی چڑیا گھر کے باہر کے ایم سی مارکیٹ کی 425 دکانوں کو نوٹس مدت پوری کیے بغیر اچانک چند گھنٹوں کے نوٹس پر مسمار کردیا گیا، یہ 5جنوری کا دن تھا جب صبح سے ہی کے ایم سی کا عملہ بھاری مشینری کے ہمراہ مارکیٹ میں پہنچا اور3 گھنٹے میں دکانیں اور بالائی منزل خالی کرنے کا حکم دیا، دکانداروں کے ساتھ بالائی منزل پر قائم 25 کے قریب بینڈ باجے والوں کے دفاتر میں بھی افراتفری پھیل گئی، لاکھوں روپے مالیت کے ساز اور باجے جن میں سے بہت سے ساز نایاب ہو چکے ہیں ہنگامی بنیاد پر باہر نکالے گئے اور آس پاس جہاں جگہ ملی ڈھیر کر دیے گئے اس افراتفری میں متاثر ہونے والوں میں ماسٹر غوث محمد بھی شامل ہیں جو اب گارڈن سے متصل ایک مکینک کی دکان کے آدھے حصے میں منتقل ہو گئے ہیں ۔

سیکڑوں شاگردوں کو اس فن کی تربیت دینے والے ماسٹر غوث کا کہنا ہے کے ایم سی کی جانب سے منصوبہ بندی کے بغیر کارروائی سے دکانوں اور دفاتر کے ساتھ خوشیوں کے لمحات کو یادگار بنانے والا فن اور شہنائیوں کی آوازیں بھی ملبے میں دفن ہوگئی ہیں، بینڈ باجے کا شہر میں واحد مرکز بھی ختم ہو گیا ہے اور تمام کمپنیاں تتر بتر ہوکر بکھر گئی ہیں، بینڈ باجے کی روایت بدلتے ہوئے رجحانات اور شہری طرز زندگی میں تبدیلی کی وجہ سے پہلے ہی معدومیت کا شکار تھی تاہم شہر کی بدصورتی کے خاتمے کیلیے ایک خوبصورت روایت بھی دفن کر دی گئی ہے۔

ماسٹر غوث محمد مصیبت میں دکھی، شاگردوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے سرگرم ہیں

ماسٹر غوث سے ان کے شاگرد والہانہ محبت کرتے ہیں اور انھیں والد کا درجہ دیتے ہیں ان کے شاگردوں کا کہنا ہے کہ ماسٹر غوث نے بہت اچھا وقت دیکھا اب کسمپرسی کا شکار ہیں اپنے شاگردوں سے ماسٹر غوث بھی بہت محبت کرتے ہیں اور اچھے شاگردوں کی خوب قدر کرتے ہیں ، شاگردوں کو ڈانٹ کر اور غلط ساز پر جھڑکیاں سنا کر محبت کا اظہار کرتے ہیں، گئے زمانوں کو یاد کرتے ہیں اپنے کریئر کے عروج اور پولیس بینڈ کی قیادت کے وقت کی تصاویر کا البم ان کی یادوں کا ذخیرہ ہے جو گارڈن مارکیٹ سے بے دخل ہونے کی وجہ سے ساز و سامان میں کہیں دب گیا ہے اپنے والد کی تصویر جسے وہ اپنے دفتر میں نمایاں آویزاں کرتے تھے، وہ یادگار تصویر بھی کہیں سامان تلے دب گئی ہے، ماسٹر غوث اس مصیبت کی گھڑی میں بہت دکھی ہیں لیکن اپنے شاگردوں اور دیگر بینڈ کمپنیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے سرگرم دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کی تیزی سے جھپکتی آنکھوں کے پیچھے چھپی نمی کا اندازہ آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔

60سال سے قائم دفتر مسمار ہونے پر ماسٹر غوث کی امید ٹوٹ گئی

ماسٹر غوث محمد فن کار گھرانے کی دوسری نسل سے تعلق رکھتے ہیں ، شہنائی ان کا پسندیدہ ساز ہے، ساٹھ کی عمر کے لپیٹے میں آچکے ماسٹر غوث کو یہ فن اپنے والد سے ورثے میں ملا اور کم عمری سے ہی انہوں نے ٹرم پٹ، شہنائی اور دیگر ساز بجانے کی تربیت اپنے والد سے حاصل کی اور جوانی تک پہنچتے پہنچتے یورپی ساز بیگ پائپ پر مکمل مہارت حاصل کرلی، ماسٹر غوث پولیس کے بینڈ سے بھی وابستہ رہے اور بطور بینڈ ماسٹر اہم سرکاری تقریبات میں بینڈ کی قیادت کرتے ہوئے اپنے فن کا مظاہرہ کیا، ماسٹر غوث محمد نے اپنے 40 سال کے کیریئر کے دوران سیکڑوں کی تعداد میں شاگرد تیار کیے جن میں سے بیشتر شاگرد پولیس اور دیگر فورسز کے بینڈ میں شامل ہیں جبکہ کئی شاگردوں کو خلیجی ریاستوں کے سرکاری بینڈز میں شمولیت کا موقع ملا، ماسٹر غوث محمد کے اپنے three بیٹے بھی اس فن سے وابستہ ہیں تاہم ماسٹر غوث محمد اس فن کے مستقبل سے اب ناامید ہیں بالخصوص 60سال سے قائم اپنے دفتر کو مسمار کیے جانے کے بعد ان کی تمام امیدیں دم توڑ گئی ہیں اور وہ خود اب ایک حسرت کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔

تمام بینڈ کمپنیاں رام سوامی اور قریبی علاقوں میں دفاتر بنا رہی ہیں

ماسٹر غوث نے اپنا دفتر رام سوامی کے علاقے میں ایک چھوٹی سی دکان میں منتقل کردیا ہے جہاں اندر دو افراد کے بیٹھنے کی بھی جگہ نہیں ماسٹر غوث نے بتایا کہ افراتفری کے عالم میں تمام سامان ٹرکوں میں لاد کر جہاں جگہ ملی ڈھیر کرنا پڑا جسے اب تھوڑا تھوڑا کرکے رام سوامی منتقل کیا جارہا ہے انھوں نے بتایا کہ ابھی 5جنور ی کا سورج پوری طرح طلوع بھی نہ ہوا تھا کہ کے ایم سی کا عملہ سر پر آن پہنچا نہیں معلوم انہیں یکدم شہر کو خوبصورت بنانے کی کیوں جلدی پڑی تھی کے ایم سی نے ایک مہینے کا نوٹس دیا تھا جو 30 جنوری کو پورا ہونا تھا۔

اس لیے دکانداروں کی طرح بینڈ باجے والے بھی مطمئن تھے اور مناسب جگہ تلاش کررہے تھے پرانا دفتر ختم ہونے کے بعد ماسٹر غوث کے شاگردوں نے ان کا ساتھ دیا شہر کے کونے کونے میں جہاں جہاں ان کے شاگردوں کو خبر پہنچی بیشتر شاگرد ان کے پاس پہنچ گئے اور اب تک ان کے ساتھ ہیں دیگر بینڈ کمپنیوں سے وابستہ افراد بھی رام سوامی اور دیگر علاقوں میں جگہ بنارہے ہیں فی الوقت متعدد کمپنیاں ایک ساتھ کام کی تیاری کر رہی ہیں ماسٹر غوث کے نئے ٹھکانے پر بھی three کمپنیوں کے سازندے موجود تھے اور آپس میں کام بانٹ کر مصیبت کی اس گھڑی کو گزارنے کی باتیں کر رہے تھے۔

مزید پڑھیں:  حکومت سندھ کا 12 ہزار اساتذہ کو مستقل کرنے کا فیصلہ

شادی اور بارات 15 سال قبل بینڈ باجے کے بغیر ادھوری ہوتی تھی

15 سال قبل شادی بالخصوص باراتیں بینڈ باجوں کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی تھیں، رنگا رنگ کلف دار وردیوں اور سروں پر پگڑیاں اور ٹوپیاں سجائے بینڈ دولہے کی بھگیوں اور سجی سجائی گاڑیوں کے آگے مارچ کرتے ہوئے خوشیوں کے گیت کی دھنیں بکھیر کر لڑکی والوں کو بارات کی آمد کی نوید دیتے تھے، بینڈ باجے کے شاندار مارچ کیلیے بارات کو کچھ فاصلے پر ہی روک لیا جاتا تاکہ دولہا اور باراتی بینڈ کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے لڑکی کے گھر یا پنڈال تک پہنچیں، مشہور دھنوں پر سر بکھیرتے بینڈ بارات کی شان سمجھے جاتے تھے۔

بینڈ باجے جہاں سے گزرتے لوگ اپنے کام کاج چھوڑ کر ان کا مظاہرہ دیکھتے اور دولہے کے دوست اور قریبی رشتہ دار بینڈ پر کرنسی نوٹ نچھاور کرتے ، بینڈ باجے والوں کو بھی مہمانوں کی طرح عزت دی جاتی اور خوب آئو بھگت ہوتی یہ بینڈ رخصتی کے بعد دولہا کے گھر جاتا جہا ں تادیر شادیانے بجائے جاتے، ماسٹر غوث محمد بھی اسی طرح سیکڑوں باراتوں کو یادگار بناچکے ہیں۔

ماسٹر غوث کی شہنائی کی دھنیں four دہائیوں تک سر بکھیرنے کے بعد اب خاموش ہوگئی ہے ماسٹر غوث کی شہنائی جب رخصتی کے وقت بابل کی دعائیں لیتی جا جیسے جذباتی گیت کی دھن بجاتی تو سننے والوں کے آنسو جھلک پڑتے اور تمام باراتی بالخصوص دلہن کے والدین بہن بھائی اور عزیز و اقارب اس دعائیہ دھن تلے اپنے دل کے ٹکڑے کو رخصت کرتے، ماسٹر غوث کی انگلیاں جب ٹرم پٹ ،سیکسو فون، فرنچ ہورن یا ٹرام بون (باجوں) پر متحرک ہوکر شادمانی ہو شادمانی جیسی مشہور دھنیں بکھیرتیں تو سننے والے جھوم اٹھتے بدقسمتی سے ماسٹر غوث 15سال قبل ایک ٹریفک حادثہ کا شکار ہوگئے جس میں ان کے سر کے اندرونی حصے میں گہری چوٹیں آئیں اور ان کی قوت گویائی کے ساتھ تنفس (سانس لینے) کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی اب وہ جسمانی حرکت میں بھی دشواری کا شکار ہیں۔

گارڈن مارکیٹ نہیں موسیقی کے فنکاروں کا مستقبل ڈھا دیا گیا
شاگردوں کے دلاسوں کے باوجود ماسٹر غوث ناامید اور مایوس نظر آتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ اب اس کام کا کوئی مستقبل نہیں رہا۔ بینڈ باجے والوں کی مرکزیت ختم ہو گئی، تمام بینڈ تتر بتر ہوکر چھوٹی چھوٹی گلیوں میں منتقل ہو گئے، گارڈ ن کی مارکیٹ مین روڈ پر واقع تھی شہر بھر کے لوگ وہاں سے گزرتے اور رابطہ آسان تھا اسی طرح پرانی اور نئی پارٹیاں باآسانی وہاں آجاتی تھیں تمام سازوسامان قرینے سے سجا ہوا تھا وردیاں تیار رہتی تھیں جیسے ہی آرڈر ملتا کام کی تیاری شروع کردی جاتی جانے آنے کے لیے ٹرانسپورٹ بھی مناسب دام پر مل جاتی تھی لیکن اب کوئی پرسان حال نہیں بے سروسامانی کا شکار ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ یہ فن پہلے ہی آخری ہچکیاں لے رہا تھا نئے لوگ اس کام میںآنے کو تیار نہیں جو لوگ یہ کام کررہے ہیں وہ بھی اسے پارٹ ٹائم کرتے ہیں اور دن کے وقت کسی اور پیشے سے وابستہ ہیں تاکہ اپنے اہل خانہ کی کفالت کرسکیں، انھوں نے کہا کہ بینڈ باجے والوں نے گارڈن کے متاثرین دکانداروں کے پاس اپنا اندراج کرادیا ہے، ماسٹر غوث کا کہنا تھا کہ بینڈ باجا کمپنیوں کو ایک ساتھ کسی موزوں جگہ پر متبادل جگہ مل جائے تو یہ کام جیسے تیسے جاری رہ سکتا ہے لیکن یہ کام جلد از جلد ہونا ضروری ہے جتنی تاخیر ہوگی اتنا ساز و سامان خراب ہو گا اور سازندے بکھر جائیں گے ۔

دفاتر عین اس وقت مسمار کیے گئے جب شادی بیاہ کاسیزن عین عروج پر تھا
گارڈن سے بینڈ سروس کے تمام دفاتر اب ختم کر دیے گئے ہیں کے ایم سی نے 425متاثرہ دکانداروں کو شہر کے جنوبی علاقے میں ہی متبادل جگہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ متاثرین میں 25کے قریب بینڈ باجے والے بھی شامل ہیں جو یومیہ کماکر اپنے گھروں کی کفالت کرتے تھے، بینڈ باجے کے دفاتر عین اس وقت مسمار کیے گئے جب شادی بیاہ کا سیزن عین عروج پر تھا ماسٹر غوث محمد اس مارکیٹ کے سینئر ترین استاد تھے اور ان کے پاس نادر و نایاب انسٹرومنٹس کا ایک بڑا کلیکشن موجود تھا جسے وہ اپنے بچوں کی طرح عزیز رکھتے تھے۔

شہری طرز زندگی تبدیل ہونے کی وجہ سے بینڈ باجے کی روایت پہلے ہی پھیکی پڑ چکی تھی تاہم کچھ برادریوں اور علاقوں میں اب بھی بینڈ باجوں کی روایت قائم ہونے سے دال روٹی چل رہی تھی، شہری بھی گارڈن کی مرکزی مارکیٹ کا رخ کرنے کو ترجیح دیتے جہاں کم سے کم اور مناسب بجٹ میں بھی بینڈ مل جاتا، بینڈ کمپنیاں ماسٹر غوث سے ان کے انسٹرومنٹس بھی ادھار لے لیتی اسی طرح مل جل کر وردیوں اور سازندں کی کمی پوری کی جاتی کسی کے پاس کام نہ ہوتا تو ماسٹر غوث اضافی آرڈر اسے دے دیتے، گارڈن سے بے دخل کیے جانے کے بعد بھی یہ بینڈ کمپنیاں ایک دوسرے کی مدد سے بقا کی جنگ کے آخری محاذ پر برسر پیکار ہیں۔

The publish انسداد تجاوزات مہم میں بینڈ باجے کا واحد مرکز ختم، شہنائیاں خاموش appeared first on ایکسپریس اردو.

Download WordPress Themes
Download Premium WordPress Themes Free
Download Premium WordPress Themes Free
Download Nulled WordPress Themes
free online course
download mobile firmware
Download WordPress Themes Free
udemy paid course free download

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں